کاروار 11 / فروری (ایس او نیوز/کے ایم) سیاست داں اپنے لیڈروں اور پارٹی کی ستائش کرنے میں کس حد تک شیخی بگھار سکتے ہیں اس کی تازہ مثال بی جے پی کے ریاستی صدر اور جنوبی کینرا سے رکن پارلیمان نلین کمار کٹیل نے کاروار میں پیش کی ہے جسے سن کر عقل والوں کے ہوش و ہواس اڑ گئے ۔
اپنے حالیہ دورے کے موقع پر نلین کمار کٹیل نے جہاں کانگریس اور جنتا دل کو اپنے نشانے پر رکھا وہیں اپنی پارٹی اور انکولہ - کاروار حلقہ سے ایم ایل اے روپالی نائک کی کارکردگی کی تعریف و توصیف کرنے میں ڈینگیں مارنے کی حد کردی ۔ اپنی تقریر کے دوران نلین نے روپالی نائک کو کتور رانی چینمّا سے تشبیہ دی ۔ اور بتایا کہ اپنی ریاستی اور مرکزی ڈبل انجن والی سرکار سے ملنے والے فنڈس کا ایسا استعمال ہوا ہے کہ ترقی کے معاملے میں انکولہ بنگلورو جیسا بن گیا ہے اور کاروار سنگاپور کے قریب قریب پہنچ گیا ہے ۔ اس طرح کی شیخی بگھارنے والا نلین کمار کا یہ ویڈیو کلپ سوشیل میڈیا پر خوب وائرل اور ٹرول ہو رہا ہے ۔
لوگوں کا کہنا ہے کہ خود اپنے حلقہ کے شہر منگلورو کو سنگاپور کے ساتھ تشبیہ دینے کی پوزیشن میں نہ رہنے والے نلین کمار کس بنیاد پر کاروار شہر کو سنگاپور سے تشبیہ دے رہے ہیں یہ سمجھنا مشکل ہے ۔ لوگ سوال کر رہے ہیں کہ جب کاروار شہر کے اندر بہہ رہے سڑے اور گندے پانی کے نالے سے ابھی تک شہریوں کو نجات نہیں ملی ہے ، شہر کی سڑکیں اور سرکل ابھی درست حالت میں نہیں ہیں ، برساتی پانی کی نکاسی کے نالے ڈھنگ سے نہیں بنے ہیں تو پھر کاروار شہر کو سنگاپور کہنے کا مطلب کیا ہے ۔
لوگوں کا کہنا ہے کہ کٹیل جیسے سیاستداں الیکشن کے موسم میں بڑی چالاکی سے ایسی کہانیاں گھڑتے ہیں اور اس انداز سے انہیں عوام کے سامنے پیش کرتے ہیں کہ اچھے اچھے لوگ بے وقوف بن کر ان کے جال میں پھنس جاتے ہیں ۔ ورنہ کاروار کی شہر کی اگر کچھ ترقی ہوئی بھی ہے تو یہ روپالی کے چار پانچ سال کی ترقی نہیں ہے بلکہ یہ سلسلہ بہت پہلے سے چلا ہے اور آئندہ بھی چلتا رہے گا ۔ لیکن کیا کیا جائے کہ نلین کمار اور ان کی پارٹی کو دوسری پارٹیوں کو کنارے لگا کر ہر معاملے میں اپنا ہی جھنڈا گاڑنے کی عادت پڑ گئی ہے اور اب وہ اس میں اتنے ماہر ہوگئے ہیں کہ لوگوں کو بڑی آسانی سے بے وقوف بنا لیتے ہیں ۔